توراۃ الہامی تاریخ کا ایک مایہ ناز حصہ ہے۔ اردو زبان میں اس کا مطالعہ علم تقابلِ ادیان کے طالب علموں اور مذہبی ہم آہنگی کو سمجھنے کے لیے بے حد مفید ہے۔ ایک مسلمان کے لیے اصل توراۃ پر ایمان لانا لازم ہے، جبکہ موجودہ توراۃ کا مطالعہ تاریخی اور علمی تناظر میں کیا جاتا ہے۔
روایتی یہودی اور عیسائی عقیدہ یہ ہے کہ تورات حضرت موسیٰ علیہ وسلم نے تحریر کی۔ تلمود (Talmud) میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ موسیٰ نے اپنی کتاب لکھی، جبکہ آخری آٹھ آیات (جو موسیٰ کی وفات کا بیان کرتی ہیں) حضرت یشوع (Joshua) نے لکھیں۔ جدید علمی تحقیق اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ تورات کو متعدد مصنفین نے صدیوں میں تحریر کیا، لیکن روایتی نقطہ نظر اب بھی مذہبی اعتبار سے اہم ہے۔ torah holy book in urdu
لفظ عبرانی زبان کے لفظ "Torah" سے نکلا ہے، جس کے لغوی معنی "ہدایت"، "تعلیم" یا "قانون" کے ہیں۔ torah holy book in urdu
تورات یہودیت کا مرکزی اور سب سے اہم دستاویز ہے، اور یہ یقین کیا جاتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اسے "موسیٰ کی کتاب" (The Book of Moses) یا "پینٹا ٹیوچ" (Pentateuch) بھی کہا جاتا ہے۔ torah holy book in urdu
قرآن پاک میں تورات کو "ہدیٰ وَّ نُوْر" (ہدایت اور روشنی) کہا گیا ہے (سورہ المائدہ: 44)۔
جب بھی آسمانی کتابوں کا ذکر ہوتا ہے، ایک نام جو مسلمانوں کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے وہ ہے ۔ توریت (Torah) بنی اسرائیل پر نازل ہونے والی وہ مقدس کتاب ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کی گئی۔ اگرچہ یہ دراصل یہودیوں کا بنیادی مذہبی متن ہے، لیکن ایک مسلمان کے عقیدے کے مطابق، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ایک حقیقی آسمانی کتاب تھی۔
ابتدائی طور پر توریت نے ایک خدا کے تصور کو فروغ دیا، حالانکہ بعد میں بعض مقامات پر شرک آمیز جملے بھی داخل کر دیے گئے۔